مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میجر جنرل محسن رضائی نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعاون کے تزویراتی اثرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سطح پر باہمی تعاون سے خطے میں استحکام مضبوط بنانے، سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے اور علاقائی ممالک کی ترقی و پیشرفت کو تیز کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
میجر جنرل رضائی نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے روس کے نظریات اور اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور روس کے مشترکہ اقتصادی منصوبے، مثلاً تزویراتی راہداریوں کی تکمیل، خطے میں استحکام کے فروغ پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔
ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری نے جنگ کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی سلامتی اور استحکام کا تسلسل اور پائیداری، خطے میں کثیرالجہتی تعاون سے وابستہ ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز سمیت بین الاقوامی فورمز پر ایران کے اقدامات اور مفادات کی حمایت پر اپنے ملک کے مؤقف پر زور دیا۔
انہوں نے امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے ایران پر کیے گئے غیر قانونی فوجی حملوں، بالخصوص ایجنسی کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات پر بمباری کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران اور روس کے درمیان تعاون کے امکانات وسیع اور ہمہ جہت ہیں۔
واضح رہے روسی وزیرِ خارجہ ان دنوں تہران کے دورے پر ہیں۔
آپ کا تبصرہ